اجل رسیدہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس کی موت آ گئی ہو، جس کے سر پر موت سوار ہو، جو موت کے پھندے میں پھنسا ہوا ہو۔ "صاحبقراں پہلے ہی اس موذی اجل رسیدہ کے حال سے آگاہ تھے۔"      ( بوستان خیال، ١٧٦:٩ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اجل' کے ساتھ فارسی زبان کے مصدر 'رسیدن' سے حالیہ تمام 'رسیدہ' لگایا گیا ہے۔ ١٨٤٥ء کو "حکایت سخن سنج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کی موت آ گئی ہو، جس کے سر پر موت سوار ہو، جو موت کے پھندے میں پھنسا ہوا ہو۔ "صاحبقراں پہلے ہی اس موذی اجل رسیدہ کے حال سے آگاہ تھے۔"      ( بوستان خیال، ١٧٦:٩ )